آزاد کشمیر میں ہونے والی تیرویں آئینی ترمیم کی تفصیلات

آزاد کشمیر میں ہونے والی تیرویں آئینی ترمیم کی تفصیلات.
آزادکشمیر کو آئینی ترامیم سے کیا اختیارات ملینگے۔
1۔آزادکشمیر کے تمام شہریوں کو اب برابری کی بنیاد پر یکساں حقوق حاصل ہونگےجبکہ پہلے یہ مکمل نہیں تھے ان میں اطلاعات تک رسائی کا حق بھی شامل ہے ۔
2۔آزادجموں و کشمیر کونسل جو کہ ایگزیکٹو اتھارٹی تھی جس کو آزادکشمیر کی منتخب اسمبلی اور حکومت سے زیادہ اختیارات حاصل تھے سے ختم ہو کر صرف مشاورتی باڈی رہیگی جس کے تحت وہ مسلہ کشمیر اور دیگر اہم امور پر حکومت پاکستان کومشاورت فراہم کریگی
3۔بلدیاتی نظام کا نفاذ آزادکشمیر کے عبوری ایکٹ 74 جس کو اب عبوری آئین 74 کہا جائیگا میں بلدیاتی انتخابات کا کوئی ذکر نہیں تھا اس حوالے سے حکومت نے آرڈینینس جاری کر رکھا تھا جس کے تحت بلدیاتی انتخبات کروانے کی کوئی پابندی نہیں تھی اب باضابطہ طورپر آئین میں بلدیاتی انتخابات اور مقامی حکومتوں کا تصور دیا گیا ہے
4۔آزادکشمیر کونسل کو مکمل مالیاتی اختیار تھے محکمہ مالیات،اے جی آفس سمیت تمام امور کو صرف کونسل دیکھنے کی مجاز تھی اب یہ مکمل طورپر آزادکشمیر حکومت کے اختیار میں آجائیں گے
5۔ٹیکس وصولی اور اس کا تصرف۔کونسل ٹیکس وصول کر کہ آزادکشمیر حکومت کو دیتی تھی جس میں سے بیس فیصد انتظامی اخراجات کی مد میں اپنے پاس رکھ لیتی تھی ٹیکس وصولیوں اور ان لینڈ ریونیو کے محکمہ جات اب مکمل آزادحکومت کے اختیار میں ہوگا جس سے وہ آمدن میں اضافہ کےاہداف یقینی طورپر حاصل کرسکے گی کیونکہ مالیاتی خودمختاری کے تحت حکومت کو اپنا وسائل خود پیدا کرنا ہیں اس سے پہلے ریاستی آمدن کا بڑا حصہ کونسل کے فنڈز میں جاتا تھا اب آزادکشمیر حکومت کا ایک ہی اکاونٹ ہو گاجس پر منتخب حکومت کا کنٹرول ہوگا

6۔سٹیٹ سبجیکٹ یعنی باشندہ ریاست سرٹیفیکیٹ اب آزادکشمیر حکومت جاری کریگی

7۔پریس اینڈ پبلیکشن اخبارات کے ڈکلیریشن میڈیا سے متعلقہ امور اب آزادحکومت دیکھے گی اور جاری کریگی اس سے پہلے یہ کونسل دیکھتی تھی

8۔کونسل کے تمام اثاثہ جات منتقل ہونے والے یا نہ ہونے والے آزادکشمیر حکومت کی ملکیت قرار پائیں گے ملازمین کی تنخواہیں و دیگر امور آزادحکومت کی کی ذمہ دار ی ہو گی

9۔اسلامی نظریاتی کونسل ،شریعہ اپیلٹ بینچ کاپہلے آئین میں کوئی ذکر نہ تھا انہیں تحفظ دیدیا گیا ہے ۔

10۔تمام ریاستی وسائل پر آزادکشمیر کا حق تسلیم کرتے ہوے ان کے استعمال کے لیے حکومت اسمبلی کی اجازت لازمی قرار دیدی گئی ہے ۔

11۔ انکم ٹیکس ، ٹورازم ، اے جی آفس ، سوشل ویلفیئر ، اخبارات ، پرنٹنگ پریس وغیرہ شامل ہیں ۔ شیڈول 1میں دفاع ، کرنسی ، امور خارجہ ، مواصلات ، برآمدات ، جیالوجیکل سروے ، نیوکلیئر انرجی وغیرہ حکومت پاکستان کے پاس رہیں گے ۔ پارٹ 1میں ریلوے ، گیس ، برقیات ، کسٹم ٹرمینل شامل ہیں ۔ پارٹ Bمیں 33معاملات حکومت پاکستان کے پاس رہیں گے البتہ آزاد کشمیر اسمبلی ان معاملات پر حکومت پاکستان کی اجازت سے قانون سازی کرسکے گی یاد رہے کہ ان پر اسمبلی کو پہلے کوئی اختیارات حاصل نہیں تھے

12۔آزادکشمیر میں صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی جگہ ایک باضابطہ ادارہ الیکشن کمیشن قائم کیا جائیگا جس کے سربراہ کے انتخاب کے لیے وزیراعظم آزادکشمیر اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے نام چئیرمین کشمیر کونسل کو بھیجیں گے جو اس کی تقرری کرینگے ۔جبکہ دو ممبران کا تقرر حکومت آزادکشمیر کریگی۔

13۔قانون ساز اسمبلی کا اجلاس اب سال میں کم از کم ساٹھ دن لازمی ہونا قرار پاے گا آزادکشمیر حکومت کی پیدا کردہ بجلی وہ خود استعمال کرنے کی مجاز ہوگی البتہ دیگر پراجیکٹس جیسا کہ منگلا ڈیم نیلم جہلم شامل ہیں کے معاہدہ جات اور ان کے واٹر یوزج چارجز دیگر صوبوں کی رائیلٹی کے برابر ہونگے آزادکشمیر کے وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے اسمبلی کی اجازت لازمی ہوگی
جو لوگ اس بات پر تنقید کررہے ہیں کہ اب کچھ امور براہ راست چئیرمین کشمیر کونسل کے پاس چلے جائیں گے تو ان کے جواب میں عرض ہے کہ کچھ معاملات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حکومت پاکستان کو تفویض ہیں اور کچھ معاملات کی وسعت اور انہیں تصرف میں لانے کے لیے وسائل کے حجم کی عدم دستیابی کے باعث ان سے استفادہ حاصل کرنا ممکن نہیں دوسرا چار دہائیوں سے کونسل نے ان معاملات سمیت کسی بھی معاملے پر فیصلہ سازی کے وقت آزادکشمیر حکومت یا اراکین کونسل سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی ہمیں پاکستان اور اس کی ساری سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ کشمیریوں کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے پہلے جو تلخیاں کڑواہٹیں پیدا ہوئیں وہ کونسل کی پیدا کردہ تھیں جو کسی کو جوابدہ نہیں تھی اب ان کا خاتمہ ہوگا انشاء اللہ اور پاکستان اور کشمیریوں کے درمیان رشتے مزید مظبوط ہونگے اب آزادحکومت کے پاس کارکردگی نہ دکھانے کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا نہ ہی یہ بات کوئی کرسکے گا کہ جناب ہمارے پاس تو اختیارات ہی نہیں یہ تجزیہ مجوزہ ڈرافٹ کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے اس میں غلطی کی گنجائش موجود ہے.

بیٹا موبائل تو ٹھیک ہے نا

کسی زمانے میں روزانہ رات کو باقاعدگی سے ابو کی ٹانگیں دباتا اور سر کی مالش کرتا تھا پھر لیپ ٹاپ اور انڈرائڈ موبائل آیا اور اس فریضے کو گویا بھول ہی گیا

پچھلے دنوں ابا جی ایک لمبے سفر سے لوٹے تو تھکن کی وجہ سے چال میں کچھ لنگراہٹ سی محسوس ہوئی
نہ جانے کیوں دل میں خیال آیا اور ابا کی ٹانگیں دبانے بیٹھ گیا ابا نے بس ایک سوال پوچھا

💔”بیٹا موبائل تو ٹھیک ہے نا”💔

یہ چند لفظوں کا ایک سوال نہیں ہزاروں لفظوں پے بھاری ایک نوحہ ہے

والدین بڑے حساس ہوتے ہیں انہیں سب نظر آتا ہے لیکن وہ اکثر کچھ نہیں کہتے

سوشل میڈیا میں غرق بچو ۔۔۔
اپنے والدین کو وقت دو
ان کے چہرے پڑھو
ان کے کہنے کا انتظار نہ کرو

💔💔ایسا نہ ہو کہ وقت گزر جائے اور پچھتانا پڑے💔

شادی کیا ھے ؟

شادی کیا ھے ؟

     • شادی  ..;

وہ خوب صورت جنگل ھے … جہاں … “
بہادر شیروں ” کا شکار .ہرنیاں کرتی ہیں.!! 😜😜

                  • شادی مطلب ..

. اجی سنتے ہو سے لیکر ..بہرے ہوگئے ہوکیا؟
تک کاسفر .!! 😊😊

                • شادی مطلب ...

تیرے جیسا کوئ نہیں سے لیکر تیرے جیسا بہت دیکھے ہیں .!! 😊😊

             • شادی مطلب  ...

آپ رہنے دیجئیے ..سے لیکر۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تو رہنے ہی دیجیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تک کا سفر… 😊😊

             • شادی مطلب ...

کہاں گئے تھے جان … سے لیکر … کہاں مرگئے تھے …
تک کا سفر۔۔.. 😊😊

              • شادی کا مطلب

!آپ نصیب سے ملے ہو سے لیکر …میرا نصیب ہی پھوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھا تک کا سفر … 😊😊

• شادی شدہ زندگی کشمیر جیسی ھے
خوبصورت تو ھے۔۔۔۔۔۔لیکن آتنک بہت ھے
سب شادی شدہ دوستوں کو شادی کا عالمی دن مبارک ہو
نوٹ،،،،،،
مہربانی فرما کے صرف شادی شدہ دوستوں کو ہی فارورڈ کریں شکریہ

     😝😝😆😆😅😅

😂😂😂😂😂😂😂

تاریخ میں پہلی بار اور عمران خان

تاریخ میں پہلی بار۔یہ فقرہ عمران خان نے اپنا تکیہ کلام بنالیا تھا۔ وہ کوئی بھی کام کرتے تو کہتے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے حالانکہ وہ کام اس سے پہلے بھی ہورہے ہوتے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی اے ترجمانوں اور خادمین نے بھی یہ فقرہ دہرانا شروع کیا ۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ کوئی منفرد سیاسی کردار ادا کررہے ہیں حالانکہ یہ کردار ان سے قبل ماضی قریب میں جونیجو بھی ادا کرچکے تھے، میاں نوازشریف بھی اور پھر چوہدری شجاعت حسین بھی ۔ اب ان کے رویے سے لگ رہا ہے کہ جیسے وہ تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم بنائے گئے ہیں حالانکہ ان کی طرح ظفراللہ جمالی بھی وزیراعظم بنائے گئے تھے اور شوکت عزیز بھی ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے اپنی صحافتی زندگی میںپہلی مرتبہ حکومت کے نام پر ایک عجیب و غریب شے دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ مثلاً یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ کسی ملک کے لیڈر یوٹرن کو اپنی صفت اور کارنامہ بتارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ کسی ملک کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ انہیں روپے کی قیمت میں کمی کے فیصلے کا پتہ ٹی وی خبروں سے چلا لیکن ان کی حکومت کےا سٹیٹ بینک کے گورنر کہتے ہیں کہ فیصلے کا وزیر خزانہ کو علم تھا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اہم عہدوں پر تعیناتیاں ایک خاتون کے

خوابوں کی بنیاد پر یا پھر کچھ لوگوں کی سفارش پر کی جارہی ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ سینئر ترین اور تجربہ کار لوگوں کی بجائے دو صوبوں میں ایسے وزرائے اعلیٰ لگائے گئے جو کوئی بھی کام کرسکتے ہیں لیکن صوبہ نہیں چلاسکتے ۔ اسی طرح یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں وزرائے اعلیٰ سے زیادہ ان کے بعض وزرا بااختیار ہیں ۔ وزیراعظم اعلان کرتے ہیں اور بار بار کرتے ہیں کہ وہ وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کریں گے ۔ لوگ ان سے التجائیں کرتے ہیں کہ وزیراعظم ہائو س کی لوکیشن اور عمارت یونیورسٹی کے لئے موزوں نہیں ۔ لیکن سستی شہرت کے لئے وہ مصر رہتے ہیں ۔باقاعدہ طور پر وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جاتا ہے پھر ہائرایجوکیشن کمیشن سے ایک افسر کو لاکر مجوزہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کے طور پر وزیراعظم ہائوس میں بٹھایا جاتا ہے، اس عمل میں کئی لاکھ روپے خرچ ہوجاتے ہیں لیکن اچانک متحدہ عرب امارات کے ولی عہد پاکستان کے دورے پر آتے ہیں ۔ ان کا شایان شان استقبال کرنے کا پروگرام بنتا ہے اور وزیراعظم ہائوس کو دوبارہ وزیراعظم ہائوس بنانے کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر کو وہاں سے نکال دیا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی کا سارا سامان بھی باہر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے پھر ماضی کی طرح وزیراعظم ہائوس بنانے پر کئی لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں ۔ یہ تماشے ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ایک وزیر کہتے ہیں کہ سندھ حکومت کے خلاف عدم اعتماد لائیں گے ۔ دوسرے کہتے ہیں کہ گورنر راج لگائیں گے ۔ تیسرے کہتے ہیں کہ ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ۔ ایک ہی حکومت کے مختلف وزیروں کے متضاد بیانات کا یہ تماشہ بھی ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ اسی طرح پرویز خٹک اور دیگر وفاقی وزرا پر مشتمل حکومتی کمیٹی وزیراعظم کے دئیے گئے مینڈیٹ کے تحت اپوزیشن سے مذاکرات کرتی ہے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین طے پانے والی ڈیل کے تحت میاں شہباز شریف پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین بنتے ہیں ۔ کمیٹی میں شامل حکومتی ممبران اور سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز بھی ان کو ووٹ دیتے ہیں لیکن اسی حکومت کی کابینہ کے ایک رکن شیخ رشید احمد اس فیصلے کے خلاف بولتے رہتے ہیں ۔ صرف بولتے ہی نہیں بلکہ اب اپنی حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جارہے ہیں ۔ یہ تماشہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ایک رکن اپنی حکومت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں لیکن خود حکومت سے نکل رہے ہیں اور نہ انہیں نکالا جارہا ہے ۔ اسی طرح ڈاکٹر فرخ سلیم کو توانائی اور معیشت کے لئے حکومت کا ترجمان مقرر کیا جاتا ہے ۔ وہ تقریباََ دو ماہ تک ٹی وی مباحثوں میں اس تعارف کے ساتھ حکومت کی طرف سے صفائیاں پیش کرتے رہتے ہیں ۔ لیکن ایک روز وزیراطلاعات اعلان کرتے ہیں کہ فرخ سلیم کو تو ترجمان مقرر ہی نہیں کیا گیا ۔ اب اگر واقعی فواد چوہدری کا دعویٰ درست ہے تو پھر فرخ سلیم کے خلاف نوسربازی کا مقدمہ کیوں نہ بنا؟ کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیراعظم سواتی کی طرف سے ایک غریب خاندان کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تو وزیراعظم سے لے کر وزیرداخلہ تک پوری حکومت اعظم سواتی کے ساتھ کھڑی ہوگئی ۔ اس چکر میں اسلام آباد کے آئی جی پولیس کو بھی رخصت کیا گیا ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اعظم سواتی کوظلم اور فراڈ کا مرتکب قرار دیا گیا تو مجبوراً یہ اعلان کیا گیا کہ اعظم سواتی کو وزارت سے فارغ کر دیا گیا ۔ گزشتہ دو ہفتے کے دوران حکومتی ترجمان بار بار کریڈٹ لیتے رہے کہ کس طرح اعظم سواتی کو جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزارت سے فارغ کردیا گیا ہے لیکن اب پتہ چلا کہ سرکاری ویب سائٹ پر ان کا نام بدستور وزرا کی فہرست میں موجود ہے ۔ میں نے ٹی وی پروگرام میں وفاقی وزیراطلاعات سے پوچھا کہ کیا اعظم سواتی کا استعفیٰ منظور ہوچکا ہے اور کیا ان کانوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے تو وہ تصدیق یا تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔ گویا یہ واضح نہیں کہ ایک شخص بدستور وفاقی وزیر ہےیا نہیں۔ سربراہ حکومت خاتم النبین ﷺ کے لفظ کا تلفظ نہیں جانتے ۔ ترجمان فواد چوہدری ہیں ۔ دست ہائے راست زلفی بخاری اور افتخار درانی جیسے ’’فرشتے‘‘ ہیں ۔ صوبوں کے گورنر شاہ فرمان اور عمرا ن اسماعیل جیسے ’’درویش‘‘ ہیں لیکن دعوے ریاست مدینہ بنانے کے ہیں ۔ریاست مدینہ کے مقدس لفظ کے ساتھ یہ مذاق بھی ہمیں تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے ۔اللہ پاکستان کا محافظ ہو۔

ستم ظریفی وقت نے

ستم ظریفی وقت نے
کلیوں کی نزاکت کو
دلوں کی محبت کو
اسطرح سے مثلا ہے
اسطرح سے کچلا ہے
کہ زندگی اذیت ہے
اور سانس کی بھی قیمت ہے
کس کا ہاتھ ہے جو خون سے رنگا نہیں
کس کا گریبان ہے جو گرفت سے بچا نہیں
صدائے موت آتی ہے شہر بھر کی گلیوں سے
خون کی بو آتی ہے پھولوں اور کلیوں سء

KAshmir want Freedom

میں تو امن چاہیے
ہمیں تو سکون چاہیے
یہ جو ہے بدبو بارود کی
یہ ہمیں اب نہیں چاہیے
تجھے امن کا گہوارہ بنائیں گے
تجھ پر جان بھی لوٹا دیں گے ہم
اے وطن اے وطن

Kashmir

KashmirWantFreedom

KashmirSeeksAttention

امتحانات اور اموات

امتحانات اور اموات
ہے دونوں کا قصہ بہت ہی مختصر
ایک زندگی کی لیتا ہے
دوسرا زندگی ہی چھین لیتا ہے
ایک میں جان لگا کر کامیابی ہے
دوسرے میں جان گنوا کر کامیابی ہے
ایک میں زندہ لاش بن جاتا ہے
دوسرے میں مر کے زندہ ہوتا ہے
گویا قصہ مختصر
یہ پڑھائی یہ کتابیں یہ رنگینیاں حیدر¬
سب فنا ہونے تک کا حیلہ تسکیں ہیں